اتوار، 24 مئی، 2026

پولی سسٹک اووری سنڈروم کا نام تبدیل: کیا اس سے تشخیص اور علاج میں بہتری لائی جا سکتی ہے؟

0 comments
جنوبی ایشیا میں شیزا کی کہانی کوئی نئی نہیں ہے ایسی کئی کہانیاں ہمارے ارد گرد موجود ہوتی ہے اور یہ عام ہیں۔ خطے میں لاکھوں خواتین پولی سسٹک اوورین سنڈورم کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں اور اکثر تو ایسی بھی ہیں کہ جنھیں اس بات کی بھی علم ہی نہیں ہے کہ اُن کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ بیماری دنیا بھر میں 10 سے 13 فیصد خواتین کو متاثر کرتی ہے، لیکن تقریباً 70 فیصد کیسز کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی۔

from BBC News اردو https://ift.tt/Y4XUSBN
via IFTTT

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔