
By TED LOOS from NYT Arts https://nyti.ms/2Zg5tFV
.FOCUS WORLD NEWS MEDIA GROUP EUROPE copy right(int/sec 23,2012), BTR-2018/VR.274058.IT-
جون 11, 2019
0
comments

جون 11, 2019
0
comments
جون 11, 2019
0
comments
جون 11, 2019
0
comments
جون 11, 2019
0
comments

جون 11, 2019
0
comments
جون 11, 2019
0
comments
جون 11, 2019
0
comments

جون 11, 2019
0
comments
جون 11, 2019
0
comments
جون 10, 2019
0
comments

جون 10, 2019
0
comments
جون 10, 2019
0
comments
جون 10, 2019
0
comments
جون 10, 2019
0
comments
جون 10, 2019
0
comments
جون 10, 2019
0
comments
جون 10, 2019
0
comments

جون 10, 2019
0
comments

جون 10, 2019
0
comments
جون 10, 2019
0
comments
جون 10, 2019
0
comments

جون 10, 2019
0
comments

جون 10, 2019
0
comments

جون 10, 2019
0
comments
جون 10, 2019
0
comments
جون 10, 2019
0
comments
جون 10, 2019
0
comments
جون 10, 2019
0
comments
جون 10, 2019
0
comments

جون 10, 2019
0
comments

جون 10, 2019
0
comments

جون 10, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments
جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments
جون 09, 2019
0
comments
جون 09, 2019
0
comments
جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 09, 2019
0
comments

جون 08, 2019
0
comments
جون 08, 2019
0
comments

جون 08, 2019
0
comments
جون 08, 2019
0
comments

جون 08, 2019
0
comments
جون 08, 2019
0
comments
جون 08, 2019
0
comments

جون 08, 2019
0
comments
جون 08, 2019
0
comments

جون 08, 2019
0
comments
جون 08, 2019
0
comments

جون 08, 2019
0
comments

جون 08, 2019
0
comments

جون 08, 2019
0
comments
جون 08, 2019
0
comments
جون 08, 2019
0
comments

جون 08, 2019
0
comments

جون 08, 2019
0
comments

جون 08, 2019
0
comments
جون 08, 2019
0
comments
جون 08, 2019
0
comments
جون 08, 2019
0
comments
جون 08, 2019
0
comments
جون 07, 2019
0
comments

جون 07, 2019
0
comments
عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کا مقابلہ سری لنکا کے ساتھ ہونا ہے، دونوں ٹیمیں اس سے قبل سات بار عالمی کپ مقابلوں میں مدمقابل آئیں اور ان تمام مقابلوں میں پاکستان کی ٹیم نے فتح حاصل کی ہے، اس لحاظ سے پاکستان کی ٹیم کا عالمی کپ مقابلوں میں سری لنکا کیخلاف پلڑا کافی بھاری دکھائی دیتا ہے تاہم یہ کہنا کہ سری لنکا پاکستان کے مقابلے میں کمزور حریف ہے غلط ہوگا اور اگر ایسا سوچ کر قومی کرکٹ ٹیم میدان میں اتری تو اس کو اس کی بھاری قیمت میں ادا کرنا پڑے گی، اس میچ سے قبل پاکستان کی ٹیم نے ٹورنامنٹ کی فیورٹ اور میزبان ٹیم انگلینڈ کیخلاف کامیابی حاصل کی تھی جبکہ سری لنکا کی ٹیم نے افغانستان کیخلاف بارش سے متاثرہ میچ میں دلچسپ مقابلے کے بعد کامیابی حاصل کی تھی،دونوں ٹیموں نے اب تک ٹورنامنٹ میں دو دو میچ کھیلے ہیں سری لنکا کو پہلے میچ میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ پاکستان کی ٹیم کو افتتاحی معرکے میں کالی آندھی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی ٹیم نے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کے بعد انگلینڈ کے خلاف کامیابی حاصل کرکے ٹورنامنٹ میں شاندار کم بیک کیا ہے تاہم اس جیت نے قومی کرکٹ ٹیم کی کئی خامیوں کو ایک بار پھر پردے کے پیچھے چھپا دیا ہے جن کو دور کرنا بہرحال ضروری ہے ورنہ آئندہ میچوں میں اس کا ٹیم کو نقصان ہوسکتا ہے، قومی کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ کیخلاف ریکارڈ 348رنز بنائے تاہم اگر دیکھا جائے تو جس طرح کا آغاز ٹیم کو ملا تھا اور جس طرح کی صورتحال درمیانی اوورز میں آئی تھی قومی بیٹنگ لائن اس سے کئی بہتر سکور کرنے کی پوزیشن میں تھی مگر یہ خامی واضح طور پر دکھائی کہ تیز رنز بنانے کی صلاحیت اور تجربہ کی ٹیم میں کمی ہے کوچ مکی آرتھر کو اس جانب توجہ دینی ضرورت ہے اور بیٹنگ لائن کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ جب آپ کے پاس اوورز بھی موجود ہوں اور پیچھے وکٹیں بھی باقی ہوں تو سکور کو تیز کس طرح کرنا ہے اس خامی کو دور کرکے قومی کرکٹ ٹیم کسی بھی بائولنگ لائن کیخلاف ایک اچھی اور وننگ ٹوٹل کرنے کی پوزیشن میں آسکتی ہے، یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ عالمی کپ کیلئے جس طرح کی وکٹیں بنائی گئی ہیں اس پر ہماری بائولنگ لائن اب تک اس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی ہے جس طرح کی توقعات اس سے وابستہ تھیں اس کی وجہ سلو وکٹیں بھی ہیں اور کچھ بائولرز کا آئوف آف ردھم ہونا بھی ہے جن میں محمد عامر سرفہرست ہیں بلاشبہ محمد عامر وکٹیں بھی لے رہے ہیں مگر وہ اس سے بہت بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ٹیم اور قوم ان سے یہی توقع کر رہی ہے کہ وہ اپنے اصل ردھم کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تاکہ آئندہ میچوں میں ٹیم ان کی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکے، قومی ٹیم کا سپین بائولنگ ڈیپارٹمنٹ بھی ابھی تک وہ جادو نہیں جگا سکا ہے جس کیلئے اس کی شہرت ہے، شاداب خان کے ساتھ سینئر وتجربہ کار شعیب ملک اور محمد حفیظ کو ٹیم کیلئے توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے کیلئے بہت زیادہ محنت کرنا پڑ رہی ہے، امید ہے کہ جوں جوں میچوں کا سلسلہ آگے بڑھے گا قومی بائولرز اپنی خامیوں اور غلطیوں سے سبق سیکھیں گے، گو کہ سری لنکا کی ٹیم اس وقت ماضی کے مقابلے میں اتنی مضبوط نہیں ہے لیکن بہرحال سابق عالمی چیمپئن کو کسی طور پر ہلکا نہیں لیا جاسکتا خاص طور پر افغانستان کیخلاف جس طرح ان کی بائولنگ اور فیلڈنگ نے ایک کم ہدف کا دفاع کیا وہ واقعی ایک شاندار کارکردگی ہے، جہاں تک پاکستان بیٹنگ لائن کا تعلق ہے وہ توپریکٹس میچ میچ کے دوران افغانستان کی سپن بائولنگ کے جال میں پھنس کر رہ گئی تھی اس لحاظ سے اس کیلئے سری لنکا کے سپنرز کیخلاف سکور کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا،دونوں ٹیموں کے اس اہمیت سےبھرپور میچ میں سب سے زیادہ خطرہ موسم کی جانب سے بھی ہے۔آج میچ کے دن بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔میچ کے لیے پاکستانی ٹیم کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے اور میچ بارش کے سبب نہیں ہو پاتا تو یہ پاکستانی ٹیم کے لیے بڑا دھچکا ہو گا کیونکہ اس صورت میں دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ مل جائے گا۔برسٹل میں جاری بارش کے پیش نظر میچ ہونے کی صورت میں وکٹ باؤلرز کے لیے سازگار ہو گی اور ٹاس جیتنے والی ٹیم پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کر کے اضافی فائدہ حاصل کر سکتی ہے۔
The post سری لنکا کو کمزور حریف سمجھنا ٹیم کی غلطی ہو گی۔۔ appeared first on Global Current News.
جون 07, 2019
0
comments
جون 07, 2019
0
comments
جون 07, 2019
0
comments
جون 07, 2019
0
comments
جون 07, 2019
0
comments
حافظ کریم اللہ چشتی
’’جمعہ تمام دنوں کاسردارہے اوراللہ کے نزدیک تمام دنوں سے زیادہ اہم دن ہے ۔اس کادرجہ اللہ کے نزدیک عیدالاضحی اورعیدالفطرسے بڑھ کرہے۔‘‘فرمان رسول ؐ ********** ’’ لوگ جمعہ چھوڑنے سے بازآجائیں ورنہ اللہ ان کے دلوں پرمہرلگا دیگا پھروہ ضرور غافلوں میں سے ہوجائیں گے۔‘‘(مسلم شریف) *********** اللّٰہ رب العزت اپنی پاک، لاریب کتاب قرآن مجیدفرقان حمیدمیں ارشاد فرماتا ہے: ’’ترجمہ: اے ایمان والو!جب اذان ہوجمعہ کے دن نماز کی تواللہ کے ذکرکی طرف دوڑواورخریدوفروخت چھوڑدو،یہ تمہارے لئے بہترہے اگرتم جانو ۔ (پارہ ۲۸سورۃ الجمعۃ)اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایاہے، طرح طرح کی نعمتوں سے نوازاہے جن کاانسان شمارنہیں کرسکتا۔جن و انس کی وجۂ تخلیق اللہ پاک کی بندگی بجا لاناہے۔شرع مطہرنے روزانہ پانچ مرتبہ نمازپڑھنی فرض فرمائی ہے۔اس میں جماعت کی تاکیدتوبڑی سختی سے کی ہے مگرجماعت کوفرض قرار نہیںدیا کہ اگر جماعت سے نمازنہ پڑھوگے تونمازادانہ ہوگی۔مگرہفتہ میں ایک دن ایسی نمازمقررفرمائی جوبغیرجماعت کے اداہوسکتی ہی نہیں، اس میں اللہ رب العزّت کی یہ حکمت تھی کہ مسلمان ہفتہ میںایک دن ایک مرکزمیںجمع ہوں تاکہ ایک دوسرے کے حالات کاپتہ چلتارہے اورایک دوسرے کے دکھ دردمیں شریک ہوں۔مل جل کرکام کرنے کاسلیقہ آئے تاکہ غیر مسلموں پردین اسلام کی شان وشوکت اوررعب و دبدبہ قائم رہے ۔ قرآن مجیدمیں اللہ رب العزت نے جمعہ کا ذکر مِنْ یَّوْمِ الْجُمْعَۃِ سے کیا‘یہی اس دن کی فضیلت کیلئے کافی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاردوعالم نورمجسم ؐ نے متعددبارمختلف عنوانوں سے اس کی (یومِ جمعہ) فضیلت بیان فرمائی۔حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشادفرمایا: ’’جمعہ تمام دنوں کا سردار ہے اوراللہ کے نزدیک تمام دنوں سے زیادہ اہم دن ہے ۔ اس کادرجہ اللہ کے نزدیک عیدالاضحی اور عیدالفطر سے بڑھ کرہے ۔اس میں پانچ خصوصیات ہیں۔پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کواسی دن پیدا کیا، دوسری یہ ہے کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السّلام کوزمین پراتارا،تیسری یہ ہے کہ اللہ نے اسی دن حضرت آدم علیہ السّلام کووفات دی ۔ چوتھی یہ کہ اسی دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ بندہ اس گھڑی میں جواللہ سے مانگے گا،اللہ اس کو دے گا۔شرط یہ ہے کہ حرام کاسوال نہ ہو، پانچویں یہ کہ اس دن قیامت آئے گی اور آسمان اورزمین پرکوئی بلندمرتبے والا فرشتہ،ہوائیں ،پہاڑ اور دریا ایسا نہیں جو جمعہ کے دن اس کے خوف سے نہ ڈرتا ہو۔‘‘ (ابن ماجہ) حضرت جابربن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا ’’اے لوگو!موت سے قبل اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اور متفولیت سے قبل اعمال صالح کی طرف سبقت کرو اور اپنے اور رب کے درمیان تعلق قائم کر لو، اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کر کے پوشیدہ اور ظاہراً صدقہ دو کہ اس کی وجہ سے تمہیں رزق دیا جائیگا اور تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہارے نقصان کی تلافی ہو گی اور یہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ، اس دن، اس سال کے اس ماہ میں قیامت تک کیلئے جمعہ فرض فرما دیا ہے ۔ لہٰذا جس نے بھی میری زندگی میں یا میرے بعد جمعہ چھوڑ دیا جبکہ اس کا کوئی عادل یا ظالم امام بھی ہو ، جمعہ کو ہلکا سمجھتے ہوئے یا اس کا منکر ہونے کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ اس کے پھیلائو اور افراتفری میں بھی جمعیت کو بھی مجتمع نہ فرمائیں اور نہ اس کے کام میں برکت دیں اور خوب غور سے سنو: نہ اس کی نماز ہو گی ، نہ زکوٰۃ، نہ حج ، نہ روزہ ، نہ ہی کوئی اور نیکی ۔ حتیٰ کہ تائب ہو جائے اور جو تائب ہوگیا، اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتے ہیں ۔ ‘‘( ابن ماجہ) حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا:’’اللہ نے ہم سے پہلی امتوں کوجمعہ سے بہکادیا‘اس طرح یہودی اورعیسائی قیامت تک ہمارے پیچھے رہیں گے ۔ہم دنیامیں آنے والوں کے لحاظ سے آخری ہیں اورآخرت میں فیصلہ کے لحاظ سے تمام مخلوقات سے اوّل ہیں(یعنی تمام مخلوقات سے پہلے ہماراحساب ہوجائے گا)۔(ابن ماجہ) حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ سرکارمدینہ ؐنے ارشادفرمایا:’’بہترین دن جس پرکہ سورج طلوع ہوتاہے جمعہ کادن ہے، اسی دن حضرت آدم علیہ السّلام کی تخلیق ہوئی ۔اسی دن ان کوجنت میں داخل کیاگیااوراسی دن ان کو جنت سے نکالا گیا اور قیامت جمعہ کے دن ہی قائم ہوگی۔ (مسلم شریف، ابودائود،ترمذی) حضرت عبداللہ ابن عمرؓسے مروی ہے کہ آقاؐنے ارشاد فرمایا: ’’کوئی مسلمان جمعہ کے روزیاجمعہ کی رات کو فوت ہوجائے تواللہ تعالیٰ اس کو قبرکے فتنہ سے بچالیتے ہیں۔(رواہ احمد،ترمذی)حضرت ابویعلی‘ٰ انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ حضورعلیہ الصَّلوٰۃ والسَّلام نے فرمایاکہ ’’ جمعہ کے دن اوررات میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں، کوئی گھنٹہ ایسانہیں گزرتاکہ جس میں اللہ تعالیٰ جہنم سے چھ لاکھ آدمی آزادنہ کرتاہوجن پرجہنم واجب ہوگئی تھی ۔‘‘( نزہۃ المجالس جلداوّل صفحہ 107)۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے ایک دن ،جمعہ کے دن کاذکرکیااورفرمایا:’’جمعہ میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ اگرکوئی مسلمان بندہ اس گھڑی کواس حالت میں پائے کہ وہ کھڑانمازپڑھ رہاہواوراللہ تعالیٰ سے کوئی چیزمانگے تواللہ اس کووہ چیزعطافرمادیتاہے‘‘۔اورآپؐ ؐنے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا: ’’وہ گھڑی بالکل مختصرہے‘‘۔(متفق علیہ) حضرت ابوہریرہؓ ہی سے ایک اور روایت ہے کہ رسول ؐ اللہ نے ارشاد فرمایا:’’پانچ نمازیںایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اورایک رمضان دوسرے رمضان تک اپنے درمیان میںکئے جانے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ تم کبیرہ گناہوں سے بچو۔‘‘(مسلم شریف) حضرت اوس بن اوسؓ سے مروی ہے کہ رسولؐ اللہ نے ارشادفرمایا: ’’تمہارے دنوں میں سے بہترین دن جمعہ کادن ہے، تم اس روز مجھ پر کثرت سے درودپڑھاکروکیوں کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔‘‘(ابودائود)حضرت شدادبن اوسؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ؐ نے فرمایا :’’تمہارے دنوں میں فضیلت کے لحاظ سے نہایت اچھا دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیداہوئے، اسی دن صور پھونکا جائے گا۔اسی دن بے ہوش ہو جائو گے تواس دن مجھ پربہت زیادہ درودبھیجاکروکیونکہ اس دن تمہارا درود میرے سامنے پیش کیاجاتاہے ۔‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ!اس وقت ہمارادرودکیسے آپؐ کے سامنے پیش کیاجائے گاجبکہ آپؐ وصال فرماچکے ہوں گے ؟ آپ ؐنے ارشاد فرمایا! ’’اللہ تعالیٰ نے زمین پرحرام کردیاہے کہ انبیاء کرام کے جسموں کو کھائے ۔‘‘(ابن ماجہ) جمعہ کے روزغسل کرنا،خوشبولگانا اوراچھے کپڑے پہننا بھی ثواب ہے حضرت ابوسعیدخدری ؓ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتاہوں کہ رسولؐ اللہ نے ارشادفرمایا: ’’جمعہ کے دن ہر بالغ پر غسل کرنا واجب ہے اور یہ کہ مسواک کرے اور میسرہونے پر خوشبو لگائے۔(بخاری)حضرت سلمان فارسی ؓ سے مروی ہے کہ آقا علیہ الصَّلوٰۃ والسَّلام نے ارشادفرمایا: ’’جوشخص جمعہ کے دن نہائے اور جس قدر ہوسکے پاکی حاصل کرے یا خوشبو لگائے، پھرنمازجمعہ کے لیے (مسجدکی طرف) چل پڑے اور ایسے دوآدمیوں(جومسجدکے اندربیٹھے ہوں) کے درمیان تفریق نہ کرے اورجس قدراس کی قسمت میںہو نمازپڑھے جب امام خطبہ پڑھنے لگے توخاموشی سے بیٹھے تواللہ پاک اس کیلئے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔‘‘ (بخاری شریف)حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا ’’اسے یعنی جمعہ کواللہ نے عید کادن بنایاہے ۔ تو جو شخص جمعہ میں آئے وہ غسل کرے اورجس کے پاس خوشبو ہو وہ خوشبولگائے اوراپنے اوپرمسواک کولازم کرے۔‘‘ (ابن ماجہ) حضرت ابوذرغفاریؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے ارشادفرمایا: ’’جس نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیا،عمدہ کپڑے پہنے اوراللہ نے اس کے گھروالوں کو جوخوشبوعطاکی ہے، اس کولگائے ‘جمعہ کے لیے جائے اورغلط کام یابات نہ کرے اورنہ دوآدمیوں کوجومل کربیٹھے ہوں جداکرے تواس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ۔‘‘حضرت اوس بن اوس ثقفیؓسے روایت ہے کہ اللہ کے محبوب ؐنے ارشاد فرمایا :’’جوشخص جمعہ کے دن اچھی طرح وضوکرے، پھرمسجدمیں پیدل چل کرآئے۔ امام کے قریب بیٹھے، خطبہ جمعہ (خاموشی سے سنے) اور خطبہ کے دوران بیہودہ حرکت (فضول گفتگو) نہ کرے تواسے ہرقدم کے بدلے ایک سال کے روزے رکھنے اوررات کے نفلوں کاثواب ملے گا۔)ابن ماجہ مشکوٰۃ(درج بالا احادیث مبارکہ سے پتہ چلاکہ جمعہ کے روزغسل کرنا،خوشبو لگانا،نئے کپڑے وغیرہ پہنناباعث ثواب ہے ۔ جمعہ کے روزگردنیں پھلانگنامنع ہے ہماری یہ حالت ہے کہ ہم میں سے اکثرنمازپڑھتے نہیں اور جو نماز پڑھتے ہیں ان کی حالت یہ ہوچکی ہے کہ جمعہ کے دن سب سے آخرمیں مسجد میںآتے ہیں۔جب سب سے آخرمیں آتے ہیں توپہلے آنے والے نمازیوںسے صفیںبھری جاچکی ہوتی ہیں ۔آخرمیں آنے والے نمازی پہلے نمازیوں کی گردنیں پھلانگ کرآگے جانے کی کوشش کرتے ہیں، ایسا کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ اس سے دوسرے مسلمان بھائیوں کوتکلیف ہوتی ہے، لہٰذا!جہاں جگہ ملے بیٹھ جاناچاہیے اورلوگوں کی گردنیں پھلانگنے سے بچناچاہیے۔حضرت جابربن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجدمیں آیا،رسولؐ اللہ خطبہ پڑھ رہے تھے ۔وہ لوگوں کے سروں پرسے پھلانگنے لگاتورسول ؐاللہ نے فرمایا: ’’تم نے لوگوں کوتکلیف دی اورغلط کام کیا۔‘‘ (ابن ماجہ)حضرت معاذبن انسؓ سے روایت ہے کہ سرکارمدینہؐ نے ارشادفرمایا:’’جوشخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتاہے، گویا اس نے جہنم تک جانے کا پل بنالیا۔‘‘(ابن ماجہ) نمازجمعہ کوچھوڑدینے کی وعید جمعہ کی نمازفرض عین ہے جس کی فرضیت ظہرسے مئوکد ہے۔ (درمختار)اللہ رب العزت فرماتا ہے ’’اے ایمان والو!جب جمعہ کی اذان ہوجائے تو ذکر خداکی طرف دوڑو اور ذکر خدا سے مراد باجماعت مفسرین خطبہ جمعہ مرادہے اوراذان سے مرادپہلی اذان ہے کہ جب اذان ہوجائے توخریدوفروخت چھوڑ دو یعنی ہر وہ کام چھوڑ دو جو جمعہ میں رکاوٹ ڈالے خواہ خرید وفروخت ہو،خواہ کھیتی باڑی کیوںنہ ہو،خواہ چہل قدمی یافضول باتوں میں مصروف کیوں نہ ہو۔یہ سب کام چھوڑکراللہ کے ذکرکی طرف چل کرنہیں بلکہ دوڑکرآئوتاکہ تم کامیاب ہوجائو۔‘‘ہم اگردنیاکے کام میں لگے رہے تواپنی دنیابھی برباد کر دیں گے اورآخرت بھی۔ اسی لئے اللہ رب العزت نے حکم دیاہے کہ دنیاکے سب کام چھوڑدو۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آقاؐنے ارشادفرمایا ’’جب جمعہ کادن ہوتاہے تومسجدکے تمام دروازوں پر فرشتے لوگوں کے درجے لکھنے بیٹھتے ہیں جوپہلے آئے اس کانام پہلے(لکھاجاتاہے پھرجوبعدمیں آئے اس کانام بعدمیں لکھاجاتاہے ) ۔ جب امام خطبہ کیلئے نکلتاہے توفرشتے یہ فہرستیں لپیٹ لیتے ہیں اورخطبہ سنتے ہیں ۔پھرجوکوئی نمازکوجائے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اونٹ کی قربانی دینے والے کی، اس کے بعدگائے کی قربانی دینے والے کی ،پھرمینڈھے کی قربانی دینے والے کی ،پھرمرغی قربان کرنیوالے کی ۔ سہل کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں جوکوئی اس کے بعدبھی آئے یعنی جب خطبہ شروع ہوجائے تووہ اپنافرض اداکرنے کیلئے آیا۔‘‘(ابن ماجہ) حضرت علقمہ ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ساتھ جمعہ کیلئے نکلا۔انہوں نے تین آدمیوں کومسجدمیں پایاجوان سے پہلے مسجد میں آچکے تھے ۔انہوں نے فرمایا:میرا نمبر چوتھاہے اوریہ بہت بعدکاہے، میں نے رسولؐ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ لوگ قیامت کے دن جمعہ میں آنے کے حساب سے اللہ کے قریب بیٹھیں گے۔ پہلے اوّل، پھردوسرا، پھر تیسرا ، پھر چوتھا اور چوتھاتوبہت دور ہے ۔‘‘ (ابن ماجہ)۔ حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے جمعہ میں جلدآنے کی مثال اس طرح بیان فرمائی ہے:’’جیسے اونٹ قربان کرنے والا،گائے قربان کرنے والا،بکری قربان کرنے والا،یہاں تک کہ آپ ؐنے مرغی کابھی ذکرکیاہے ‘‘۔ افسوس آج کے پرفتن دورمیں ہم نے نبی کریم ؐکے ارشادپاک کی قدرنہ کی۔ اوّل توجمعہ پڑھتے ہی نہیں، اگرپڑھتے ہیںتووہ بھی مسجدمیں تب آتے ہیں جب امام خطبہ ختم کرنے والاہوتا ہے اس سے بہت بڑانقصان ہوجاتاہے ۔جب ہم نمازجمعہ پڑھتے ہیں توصرف جمعہ کی نمازکاثواب ملتا ہے ۔ہم دنیاکی طرف تودوڑے چلے جاتے ہیں‘ دین کی خاطربھی دوڑنا چاہیے ۔جب ہم دین کی طرف دوڑیں گے تو دنیاہمارے پیچھے دوڑے گی۔سورج سامنے ہوتوسایہ پیچھے ہوتاہے، اگرسورج پیچھے ہو توسایہ آگے ہوتاہے۔اسی طرح دین اوردنیاکی مثال ہے کہ اگرہم نے دین کوآگے رکھاتوجس طرح سایہ پیچھے تھا، دنیاہمارے پیچھے ہوگی۔ اگرہم نے دنیا کو آگے رکھا تو دین پیچھے چلاجائے گاجب دین پیچھے چلاجائے تونہ ہماری دنیارہے گی اورنہ آخرت۔ دنیامیں اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہو جائیںگے، آخرت میں عذاب الیم بھگتنا پڑے گا۔ حضرت طارق بن شہاب ؓ سے مروی ہے کہ رسولؐ خدا نے ارشادفرمایا:’’ہر مسلمان پرجمعہ جماعت کے ساتھ پڑھناضروری اور واجب ہے سوائے چار(قسم کے آدمیوں کے1۔غلام پر،2۔عورت پر،3۔بچے اور 4 بیمار پر۔ )پر۔‘‘ حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ بیشک رسولؐ خدا نے ارشادفرمایاہے: ’’جواللہ اورقیامت کے دن پر ایمان رکھتاہے، اس پرجمعہ کے دن جمعہ (پڑھنا) لازم ہے، سوائے مریض ،مسافر،عورت ،بچے اورغلام کے جو آدمی جمعہ کی نمازسے بے پرواہ ہو۔کھیلنے یاسوداگری میں تواللہ تعالیٰ اس سے بے پرواہی کرتاہے۔معلوم ہواجوآدمی جمعہ کی نمازسے بے پرواہ ہوجائے تواللہ تعالیٰ بھی اس شخص سے بے پرواہ ہوجاتاہے جس شخص سے اللہ پاک اورحضورؐبے پرواہ ہوجائیںتو اس آدمی کیلئے اورکونسادروازہ مہربانی کارہ جاتا ہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے ارشادفرمایا:’’اگرتم میں سے کوئی شخص میل دومیل میں بکریاں جمع کرے اوروہاں گھاس نہ رہے تواس کی تلاش میں دورچلاجائے گا،پھرآتاہے اوروہ جمعہ میں شامل نہیں ہوتا۔اسی طرح دوسراجمعہ آتاہے اوراس میں شامل نہیں ہوتا۔پھرتیسراجمعہ آتاہے اوراس میں بھی شامل نہیں ہوتایہاں تک کہ اس کے دل پرمہرثبت کردی جاتی ہے ۔‘‘حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے جمعہ کی نمازجان بوجھ کرچھوڑدی، وہ ایک دینارخیرات کرے۔ اگریہ نہ ہوسکے تو آدھا دینار خیرات کرے۔‘‘(ابن ماجہ)حضرت ابن عمر ؓاور ابوہریرہ ؓسے مروی ہے کہ آقاعلیہ الصَّلوٰۃ والسَّلامؐ ممبرپر تشریف فرماتھے اورارشاد فرمایاکہ’’ لوگ جمعہ چھوڑنے سے بازآجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر ضرور مہرلگا دے گا، پھروہ ضرور غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘(مسلم شریف) حضرت ابو الجعدضمری ؓسے روایت ہے کہ ہم نے نبی علیہ الصَّلوٰۃ والسَّلام کویہ فرماتے ہوئے سناکہ ’’جوشخص تین جمعے سستی سے چھوڑدے تو اس کے دل پرمہرلگادی جاتی ہے۔‘‘(ابن ماجہ)حضرت عبداللہ ابن عباسؓسے روایت ہے کہ حضورؐنے فرمایا:’’ میں نے ارادہ کرلیاکہ ایک آدمی کوجمعہ پڑھانے کاحکم دوں، پھران لوگوں کے اوپران کے گھروں کوجلادوں جوجمعہ کی نمازمیں نہیں آئے۔‘‘(رواہ مسلم ) حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشادفرمایا:’’ جس شخص نے بغیرعذرکے جمعہ چھوڑدیاتواس(شخص) کوایسی کتاب میں منافق لکھ دیاجائے گاجونہ مٹائی جاتی ہے اورنہ بدلی جاتی ہے ۔‘‘ (رواہ الشافعی،مشکوٰۃ ) حضرت ابن ِعباسؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا:’’جس نے چار جمعوں کوبلا کسی عذرکے چھوڑ دیاتواس نے اسلام کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔‘‘(کنزالعمال جلد۷ صفحہ ۸۱۵) جمعہ کے دن یارات میں سورہ کہف کی تلاوت افضل ہے اورزیادہ بزرگی رات میں پڑھنے کی ہے۔ (نسائی بیہقی بسندصحیح) حضرت ابوسعیدخدریؓ فرماتے ہیں جوشخص جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھے، اس کیلئے دونوں جمعوں کے درمیان نورروشن ہوگا۔اوردرامی کی روایت میں ہے کہ جوشخص شب جمعہ سورہ کہف پڑھے گا اس کیلئے وہاں سے کعبہ تک نورروشن ہوگا۔ حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ حضورؐنے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص جمعہ کے دن یارات میں حٰم الدخان (سورۃ الدخان)پڑھے، اس کیلئے اللہ تعالیٰ جنت میں ایک گھربنائے گا۔‘‘حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ اس کی مغفرت ہوجائے گی اورایک روایت میں ہے جوکسی رات میں سورۃ الدخان پڑھے، اس کیلئے70ہزارفرشتے استغفار کریں گے ۔ جمعہ کے دن یا رات میں جوسورہ یٰسین پڑھے, اس کی مغفرت ہو جائے گی۔ افسوس صدافسوس !ہم نے اللہ اوراس کے محبوبؐ کے احکامات پرعمل کرناچھوڑدیاہے، اسی وجہ سے ہم دن بدن پستی میں جارہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تمام مومنین کونمازجمعہ شریعت کے احکام کے مطابق پڑھنے کی توفیق عطافرمائے ۔ ہم سب کواپنی بندگی اور مخلوق خداکی خدمت کی توفیق عطافرمائے۔ بروزمحشرآقاؐکی شفاعت نصیب فرمائے۔ وطن عزیزپاکستان کوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے، مسلمانوں کو آپس میں اتفاق واتحاد نصیب فرمائے۔اللہ رب العالمین آقائے دوجہاں سرورکون ومکاںؐ کی سچی اورپکی غلامی نصیب فرمائے، حضورؐکے غلاموں کا دونوں جہانوں میں بول بالا فرمائے ۔آمین ٭…٭…٭
The post جمعتہ المبارک appeared first on Global Current News.
جون 07, 2019
0
comments
جون 07, 2019
0
comments
نئی دہلی (جی سی این رپورٹ)انڈیا کی دوتی چاند ملک کی وہ پہلی ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے تسلیم کیا ہے کہ وہ ہم جنس پرست ہیں تاہم اس اعلان کے بعد ان کے اپنے ہی گھر والوں نے ان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔23 سالہ سپرنٹر نے پچھلے مہینے ہی اعلان کیا تھا کہ ان کی ’جیون ساتھی‘ انھی کے گاؤں کی ایک 19 سالہ لڑکی ہیں۔دوتی کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ فیصلہ سنہ 2018 میں انڈیا کی سپریم کورٹ کی طرف سے ہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت دینے کے تاریخی فیصلے کے بعد کیا۔لیکن جب سے انھوں نے اپنے بارے میں یہ انکشاف کیا ہے، ان کا اپنا خاندان ہی ان کی مخالفت کرنے لگا ہے۔ان کی والدہ اکھوجی اور والد چکرادھر چاند کے نزدیک اپنی بیٹی کا یہ فیصلہ ناقابلِ قبول ہے اور انھوں نے دوتی کو اپنی پارٹنر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کی اجازت نہیں دی۔ان کے والد نے اس رشتے کو ’غیر اخلاقی اور غیر مہذب‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے ٹائمز آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس نے گاؤں کے سامنے ہماری عزت خاک میں ملا دی ہے۔‘پچھلے ماہ انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے دوتی کی والدہ کا کہنا تھا کو وہ اپنی بیٹی کو اپنی ساتھی سے شادی کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گی۔

دوتی پانچ سال سے اپنی ساتھی کے ہمراہ رہ رہی ہیں، جو ساحلی ریاست اوڈیشا کے ضلع جاجپور کے گاؤں چکا گوپالپور کی رہائشی ہیں۔ان کی والدہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارا تعلق اڑیسا کی ایک روایتی برادری سے ہے جہاں یہ باتیں ممنوع ہیں۔‘’ہم اپنے خاندان والوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟ میں کھیل کی حد تک تو اس کا ساتھ دوں گی لیکن اس سے زیادہ نہیں۔‘بدھ کے روز دوتی چاند نے ٹوئٹر کے ذریعے اپنے خاندان کے بیانات کا جواب دیا۔انھوں نے اپنی ٹویٹ میں ایک انٹرویو میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے خاندان والوں کی ’منفی باتوں‘ کو اہمیت نہیں دیتیں۔ہم جنس رشتے انڈیا میں آج بھی متنازع سمجھے جاتے ہیں لیکن 2018 میں جب ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دیا گیا تو یہ سمجھا جا رہا تھا کہ یہ انڈیا میں اس حوالے سے بدلتی سوچ کا ثبوت ہے۔دوتی چاند کی جانب سے اپنے آپ کو ہم جنس پرست تسلیم کرنے پر ان کی بہت پذیرائی ہوئی۔ انڈیا میں ایل جی بی ٹی کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے معروف سماجی کارکن ہریش ائیر کا کہنا ہے کہ دوتی نے کھیل کی دنیا میں دیگر ہم جنس پرستوں کے لیے ’راہ ہموار کر دی ہے۔‘تاہم اپنے خاندان کی دقیانوسی سوچ کے پیشِ نظر دوتی کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ ان کے والدین کبھی ان کے بارے میں اپنی رائے بدلیں گے۔ان کی جان کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ پچھلے ماہ اوڈیشا کی ایک 19 سالہ ہم جنس پرست خاتون پر مقامی افراد نے اس وقت حملہ کیا جب وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ بستر میں تھیں۔تاہم انڈین میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز کے دوران دوتی زیادہ پریشان نہیں لگتیں۔انھوں نے نجی ٹی وی چینل انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے کہا: ’انتخاب اور محبت کرنے کی آزادی میرے غیر منقسم حقوق ہیں اور میں ان کا استعمال کروں گی۔‘دوتی کسی بھی عالمی ایتھلیٹکس کے مقابلے کے فائنل تک پہنچنے والی پہلی انڈین سپرنٹر ہیں۔ انھوں نے سنہ 2013 کے ورلڈ یوتھ چیمپیئن شپ کے فائنل میں جگہ بنائی تھی۔

سنہ 2014 میں ایتھلیٹکس فیڈریشن آف انڈیا نے ان پر ایک ہارمون ٹیسٹ فیل کرنے کے باعث پابندی عائد کر دی تھی۔ اس ٹیسٹ کے مطابق وہ ایک ایسی کنڈیشن میں مبتلا ہیں جسے ’ہائپر اینڈروجن ازم‘ کہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے جسم میں ٹیسٹوسٹرون نامی مردانہ ہارمون کی مقدار غیر معمولی طور پر زیادہ ہوتی ہے۔جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی اولمپک ایتھلیٹ کیسٹر سیمینیا بھی اسی کنڈیشن کا شکار ہیں۔دوتی کے وکلا نے مارچ 2015 میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کے دوران اسے ناقص اور تفریقی قرار دلوایا اور انھوں نے اگلے ہی برس ہونے والے ریو اولمپکس میں جگہ بنائی۔پھر سنہ 2018 کی ایشین گیمز میں وہ دو چاندی کے تمغے جیتنے میں کامیاب ہوئیں اور وہ اس وقت 100 میٹر دوڑ میں انڈیا کی تیز ترین خاتون ہیں۔
The post بھارت کی خاتون اتھلیٹ دوتی چاند نے خاندان کا نام ڈوبو دیا، جانتے ہیں کیا گھٹیا حرکت کی۔۔۔ appeared first on Global Current News.
ایک کہانی جس کا آغاز پاکستان ٹیلیویژن کے کوئٹہ مرکز سے ہوا اور پھر وہ پی ٹی وی کی ٹیم کے افغانستان میں یرغمال بنائے جانے اور طالبان کی جانب ...
جملہ حقوق ©
WAKEUPCALL WITH ZIAMUGHAL
Anag Amor Theme by FOCUS MEDIA | Bloggerized by ZIAMUGHAL