نوشکی سمیت دیگر شہروں میں ان حملوں کی ذمہ کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے نے قبول کی تھی اور انھیں ’آپریشن ہیروف‘ کا دوسرا مرحلہ قرار دیا تھا۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان حملوں سے نوشکی شہر میں سرکاری اور نجی املاک کو کہاں اور کتنا نقصان پہنچا اور اب لوگوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟
from BBC News اردو https://ift.tt/DiKXvdo
via IFTTT
from BBC News اردو https://ift.tt/DiKXvdo
via IFTTT




